(156)
جو حافظ روزہ نہ رکھے اس کی اقتداء میں تراویح پڑھنا کیسا ہے؟
السلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ جو حافظ قرآن روزہ نہ رکھتا ہو اس کی اقتداء میں تراویح پڑھنا کیسا ہے؟
المستفتى : محمد رضاء المصطفى
وعليكم السلام ورحمة اللہ وبركاتہ
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
اگر حافظ قرآن کسی مجبوری کے تحت روزہ نہیں رکھتا ہے تو کوئی بات نہیں کیونکہ ایسوں کواجازت ہے ارشاد ربانی ہے فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخْرَ تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اوردنوں میں ( رکھے ) ( البقرہ ۱۸۴)
اور اگر روزہ شامت نفس و شرارت نفس کی بنیاد پر بلا عذر شرعی چھوڑتا ہے تو سخت گنہگار مستحق عذاب نار، فاسق اور فاسق کے پیچھے تراویح کی نماز پڑھنا منع ہے۔ فتح القدیر میں ہے قال اصحابنا لا ينبغي ان يقتدى بالفاسق
( كتاب الصلاة جلد اول )
فاسق کی اقتداء نہیں کرنی چاہئے شامی میں ہے ان كراهة تقديمه كراهةتحریم فاسق کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے، پس ایسی صورت میں مذکورہ حافظ قرآن کے پیچھے تراویح کی نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ اور ایسے کو امام بنانا نا جائز و حرام ۔
بحوالہ فتاوی بحر العلوم جلداول ص ۴۷۳۔ ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ٢٧٣
والله تعالى اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے