Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

جس امام کا مخرج صحیح نہ ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

 (194)

جس امام کا مخرج صحیح نہ ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ

 ایک مسجد میں ایک امام ہے جو نماز پڑھاتا ہے الف کے جگہ عین پڑھتا ہے اور ہے کی جگہ عین پڑھتا ہے اور کافی حرف کے علاوہ دوسرا حرف اس سے نکلتا ہے تو اس صورت میں کیا سب کی نماز درست ہوتی ہے؟

اور ڈیلی کی عادت وہی ہے الف کے جگہ پڑھنا ہے کی جگہ پڑھنا ہمزہ کے جگہ عین پڑھنا  الف کا معنی کیا ہے اور ح معنی کیا ہے اور ع کا معنی کیا ہے اس کے بارے میں صحیح رہنمائی فرما دیں قران اور حدیث کی روشنی میں جزاک اللہ خیرا کثیرا 

سائل حافظ محمد حسنین رضا لکھنو چیدے کے پرواہ انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 

الجواب بعونه تعالي عز وجل 

بصدق سوال اولا امام نے جس ایت میں غلطی کیا یے وہ پوری آیت لکھنی چاہئے۔

بہر حال جو شخص قرأت کے دوران ایک حرف کو دوسرے سے بدل دیتا ہو اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر وہ ایسا اس لیے  کرتا ہے کہ وہ تمام حروف کی ادائیگی پر قادر ہی نہیں ہے تو ایسے شخص کو ’’الثغ‘‘ کہتے ہیں، اور ’’الثغ‘‘ کے پیچھے ایسے شخص کی نماز نہیں ہوتی جو درست قرأت کرنے پر قادر ہو۔لیکن اگر ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف غلطی سے پڑھ لیا جائے تو دیکھا جائے گا کہ ان دو حرفوں میں فرق کرنا مشکل اور دشوار ہے یا نہیں، اگر ان دو حرفوں میں فرق کرنا دشوار ہو تو نماز فاسد نہیں ہوگی، لیکن اگر ان دو حرفوں میں کسی مشقت کے بغیر آسانی سے فرق کرسکتا ہو اور فرق نہ کرنے کی وجہ سے معنیٰ میں تغیر فاحش آگیا ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی اور امام کی نماز کے فساد کی وجہ سے مقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی۔

سیدی اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن اس طرح کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں

اُسے امام بنانا ہرگز جائز نہیں اورنماز اس کے پیچھے نادرست ہے کہ اگر وہ شخص ح کے ادا پر بالفعل قادر ہے اور باوجود اس کے اپنی بے خیالی یا بے پروائی سے کلمات مذکورہ میں ھ پڑھتا ہے۔تو خود اس کی نماز فاسد وباطل ،اوروں کی اس کے پیچھے کیا ہوسکے،اور اگر بالفعل ح پر قادر نہیں اور سیکھنے پر جان لڑاکر کوشش نہ کی تو بھی خود اس کی نماز محض اکارت ، اور اس کے پیچھےہر شخص کی باطل، اور اگر ایک ناکافی زمانہ تک کوشش کر چکا پھر چھوڑ دی جب بھی خود اس کی نماز پڑھی بے پڑھی سب ایک سی ، اور اُس کے صدقے میں سب کی گئی اور برابر حد درجہ کی کوشش کئے جاتا ہے مگر کسی طرح ح نہیں لکلتی تو اُس کاحکم مثل اُمّی کے ہے کہ اگر کسی صحیح پڑھنے والے کے پیچھے نماز مل سکے اور اقتداء نہ کرے بلکہ تنہا پڑھے تو بھی اسکی نماز باطل ، پھر امام ہونا تو دوسرا درجہ ہے اور پر ظاہر ہے کہ اگر بالفرض عام جماعتوں میں کوئی درست خواں نہ ملے تو جمعہ میں تو قطعاً ہر طرح کے بندگان خدا موجود ہوتے ہیں پھر اس کا اُن کی اقتدا نہ کرنا اور آپ امام ہونا خود اس کی نماز کا مبطل ہوا ،اور جب اس کی گئی، سب کی گئی۔

بہرحال ثابت ہوا کہ نہ اس شخص کی اپنی نماز ہوتی ہے نہ اسکے پیچھے کسی اور کی تو ایسے کو امام بنانا حرام ہے ، اور ان سب مسلمانوں کی نماز کا وبال اپنے سر لیتا ہے والعیاذ بااللہ تعالٰی البتہ اگر ایسا ہو کہ تاحد ادنٰی امید کہ یہ شخص ہمیشہ برابر رات دن تصحیح حرف میں کوششِ بلیغ کئے جائے اور باوصف بقائے امید واقعی محض طول مدّت سے گبھرا کر نہ چھوڑے اور واجب الحمد شریف کے سوا اوّل نماز سے آخر تک کوئی آیت یا سورۃ یا ذکر وغیرہ اصلاً ایسی چیز نام کو نہ پڑھے جس میں ح آتی اور اسے ھ پڑھنے سے نماز جاتی ہو بلکہ قرآن مجید کی دو سورتیں اختیار کرے جن میں ح نہیں جیسےسورہ کافرون وسورہ ناس اورثناءاور تسبیحات رکوع و سجود و تشہد و درود وغیرہ کے کلمات میں جن میں ایسی ح آئی اُن کے مرادفاتْ مقاربات سے بدل لے مثلاً بجائے سبحٰنک اللھم وبحمدک اقدسک اللھم مثنیا علیک و علٰی ھذاالقیاس اور اسے کوئی شخص صحیح خواں ایسا نہ ملے جس کی اقتدا کرے اور جماعت بھرکے سب لوگ اسی طرح ح کو ھ پڑھنے والے ہوں تو البتہ جب کوشش کرتا رہے گا اس کی بھی صحیح ہوگی اور اُن سب اس کے مانندوں کی بھی اس کے پیچھے صحیح ہوگی اور جس دن باوصف تنگ آکرکوشش چھوڑی یا صحیح القراءۃ کی اقتداء ملتے ہوئے تنہا پڑھی یا امامت کی اُسی دن اس کی بھی باطل، اور اسکے پیچھے سب کی باطل ،اور جبکہ معلوم ہے کہ یہ شرائط متحقق نہیں توحکم وہی ہے کہ جمعہ و غیرجمعہ کسی میں نہ اس کی نماز درست نہ اس کےپیچھےکسی کی درست۔ یہ جو کچھ مذکور ہوا یہی صحیح ہے یہی راجح ہے یہی مختار ہے یہی مفتی بہ ہے” اسی پر عمل اسی پر اعتماد۔ واللہ الھادی الی سبیل الرشاد۔(فتاوی رضویہ،ج6، ص253-254،مسئلہ:456،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے:

(اکثر لوگ) ط ت، س ث ص، ذ ز ظ، ا ء ع، ہ ح، ض ظ د، ان حرفوں میں صحیح طور پر امیتاز رکھیں، ورنہ معنی فاسد ہونے کی صورت میں نماز نہ ہوگی۔”

۔(بہار شریعت،ج1،ح 3،قراءت میں غلطی کا بیان ، مکتبۃ المدینہ)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں:

جس سے حروف صحیح ادا نہیں ہوتے اس پر واجب ہے کہ تصحیح حروف میں رات دن پوری کوشش کرے اور اگر صحیح خواں کی اقتدا کر سکتا ہو تو جہاں تک ممکن ہو اس کی اقتدا کرے یا وہ آیتیں پڑھے جس کے حروف صحیح ادا کر سکتا ہو اور یہ دونوں صورتیں نا ممکن ہوں تو زمانۂ کوشش میں اس کی اپنی نمازہوجائےگی اور اپنے مثل دوسرے کی اِمامت بھی کر سکتا ہےیعنی اس کی کہ وہ بھی اسی حرف کو صحیح نہ پڑھتا ہو جس کو یہ اور اگر اس سے جو حرف ادا نہیں ہوتا، دوسرا اس کو ادا کر لیتا ہے مگر کوئی دوسرا حرف اس سے ادا نہیں ہوتا، تو ایک دوسرے کی اِمامت نہیں کر سکتا اور اگر کوشش بھی نہیں کرتا تو اس کی خود بھی نہیں ہوتی دوسرے کی اس کے پیچھے کیا ہوگی۔ آج کل عام لوگ اس میں مبتلا ہیں کہ غلط پڑھتے ہیں اور کوشش نہیں کرتے ان کی نمازیں خود باطل ہیں اِمامت درکنار۔ ہکلا جس سے حرف مکرّر ادا ہوتے ہیں ، اس کا بھی یہی حکم ہے یعنی اگر صاف پڑھنے والے کے پیچھے پڑھ سکتا ہے توا س کے پیچھے پڑھنا لازم ہے ورنہ اس کی اپنی ہو جائے گی اور اپنے مثل یا اپنے سے کمتر(یعنی جو اس سے زیادہ ہکلاتا ہو۔) کی اِمامت بھی کر سکتا ہے۔”

۔(بہار شریعت،ج1،حصہ3، امامت کا بیان، مکتبۃ المدینہ)

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے