Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

والدین اگر اپنی اولاد کے ساتھ بد سلوکی کرے تو شرعا کیا حکم ہے؟

 (195)

والدین اگر اپنی اولاد کے ساتھ بد سلوکی کرے تو شرعا کیا حکم ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الســـلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسںٔلہ ذیل کے بارے میں

 اگر کوئی والدین اپنی اولاد کے ساتھ بد سلوکی کرے مارے پیٹے بد دعائیں دے تو اولاد کو کیا کرنا چاہیے ؟ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساںٔلہ:_آفرین فاطمہ ایم پی انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمدہ ونصلی علی رسوله الکریم

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ 

الجواب بعونه تعالیٰ عزوجل

ﷲﷻ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیاہے: ﴿وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَانًا﴾ یعنی ان کے ساتھ انتہائی تواضع و انکساری اور ا کرام و احترام کے ساتھ پیش آئے، بے ادبی نہ کرے ، تکبر نہ کرے ، ہر حال میں ان کی اطاعت کرے ، إلاّ یہ کی وہ ﷲﷻ کی نافرمانی کا حکم دیں تو پھر ان کی اطا عت جا ئز نہیں۔

شریعت میں اس سلسلے میں دوطرفہ حقوق (اولاد کے والدین پر اور والدین کے اولاد پر دونوں) کی حدود  واضح کر دی گئی ہیں۔ قرآنِ کریم میں خدا تعالی نے والدین کی اطاعت کے ضروری ہونے کو توحید جیسے اہم عقیدے کے ساتھ ذکر کرکے اس کی اہمیت بتلادی ہے، اولاد کے ذمے لازم ہے کہ والدین کے شریعت کے موافق ہر حکم کو بجالائے، والدین کے ذمے بھی لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد میں ہر ممکن حد تک برابری اور انصاف کریں، اپنی اولاد کی خوشیوں کا خیال رکھیں، انہیں ان کی جائز ضروریات  اورمعاملات سے محروم نہ رکھیں، اور ان پر بے جا ظلم و زیادتی  سے ہر طرح گریز کریں

اگر اولاد کی طرف سے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور حقوق کی ادائیگی کے باوجود والدین اولاد کا خیال نہ رکھیں بے جا ظلم و زیادتی اور غصہ کریں تب بھی اولاد کو  والد ین سے سختی سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، البتہ خاندان کے کسی بڑے سے کہہ کر حکمت کے ساتھ ان کی فہمائش کا انتظام کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جیسے دیگر امور کے بارے میں سوال فرمائے گا،  اسی طرح اولاد کے حقوق کے بارے میں  بھی سوال ہوگا،  لیکن اولاد خود اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے ان سے نہ الجھیں۔  قرآن پاک میں ہے کہ والدین اگر اولاد کو شرک پر مجبور کریں تو اولاد ان کی اطاعت نہ کرے، لیکن دنیا میں ان کے ساتھ پھر بھی اچھا سلوک رکھے،  شرک و کفر سے بڑھ کر کوئی ظلم ہوسکتا ہے؟ اس پر مجبور کرنے کے باوجود والدین کے ساتھ بدسلوکی کی اجازت نہیں ہے ، اس حوالے سے رسول اللہ ﷺ کی تعلیم درج ذیل حدیث سے سمجھی جاسکتی ہے:

عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: من أصبح مطیعاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن کان واحداً فواحداً، ومن أصبح عاصیاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن کان واحداً فواحداً، قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه. رواه البیهقي في شعب الإیمان"(مشکاة المصابیح، کتاب الآداب، باب البر والصلة، الفصل الثالث: 3 / 1382، ط: المکتب الاسلامی)

ترجمہ:" حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا مطیع و فرماں بردار ہو تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کوئی ایک (حیات) ہو (اور وہ اس کا مطیع ہو) تو ایک دروازہ کھول دیا جاتاہے۔ اور جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا نافرمان ہو تو اس کے لیے صبح کے وقت جہنم کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کسی ایک کا نافرمان ہو تو ایک دروازہ جہنم کا کھول دیا جاتاہے۔ ایک شخص نے سوال کیا: اگرچہ والدین ظلم کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگرچہ وہ دونوں اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں"۔ (بیہقی فی شعب الایمان)

لہذا  صورتِ مسئولہ میں 

 اپنی طرف سے  والد ین کے حقوق کی ادائیگی اور حسنِ سلوک کا پورا خیال رکھیں،  ان کی خدمت، اطاعت اور دیگر شرعی حقوق  میں  بالکل کوتاہی نہ کریں، ان کے سامنے غصے یا بلند آواز سے بھی بات نہ کریں،اگرچہ والدین ظلم و زیادتی کرتے ہوں،ان کا دل جیتنے کی کوشش کرتے رہیں  اور اگر وہ غلط کام کا حکم دیں تو الجھے بغیر عذر کردیں اور ان کے لیے مستقل  یہ دعا کرتے رہیں:رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا} [بنی اسرائیل:۲۴]

ترجمہ:اے میرے رب! ان دونوں (میرے والدین) پر رحم فرما، جیسے انہوں نے مجھے بچپن میں پالا اور تربیت کی۔ 

تحفة الأحوذي شرح جامع الترمذي میں ہے:

عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا أحدثكم بأكبر الكبائر؟ قالوا: بلى يا رسول الله، قال: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، قال: وجلس وكان متكئا، قال: وشهادة الزور أو قول الزور، فما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولها حتى قلنا ليته سكت"(باب ما جاء في عقوق الوالدين:6/ 23، ط:دارالكتب العلمية)

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے