(198)
نماز میں سورت شروع کر کے کچھ پڑھ کر اسے چھوڑ کر دوسری سورت پڑھناکیسا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں اگر نماز میی جیسے پہلی رکعت میں سورہ الم ترکیف پڑھنا تھا تو غلطی سے سورہ اخلاص ہاف پڑھا ہی تھا کہ یاد آگیا پھر الم ترکیف پڑھ لیا تو کیا ہاف سورہ اخلاص پڑھا تھا کیا اس کے لیے سجدۂ سہو کرلینا ہو گآ؟ اور نماز میں کیا کیا چھوٹ نے سے سجدۂ سہو کرنا ہوگا اور سجدۂ سہو کیسے کریں؟
شرعی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا کثیرا کثیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائلہ ، آفرین عطاری شہر اویری کرناٹک ملک انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل جب سورہ اخلاص شروع کر دئے تو اسی کو مکمل کرتی
اور دوسری رکعات میں سورہ فلق پڑھ لیتی ۔کیونکہ وہ چھوٹی سورتیں جن کی آیتیں چھوٹی بڑی ہونے میں باہم قریب قریب ہوں ان میں اگر دوسری رکعت کی قرأت پہلی رکعت کی قرأت کے مقابلہ میں تین آیت کے بقدر زیادہ ہوجائے تو یہ مکروہ تنزیہی ہے۔ سورہ فلق میں سورہ اخلاص سے صرف ایک آیت زاید ہے لہٰذا یہ مکروہ بھی نہیں۔
قال فی الدر: وإطالة الثانیة علی الاولیٰ یکرہ تنزیہاً إجماعاً إن بثلاث آیات إن تقاربت طولا وقصراً وإن بأقل لا یکرہ۔ (الدر مع الرد: 2/262)
ایک سورت شروع کر لینے کے بعد دوسری سورت کی طرف منتقل ہو جائے تو ایسے شخص کا یہ عمل مکروہ ہے، گو اِس کی وجہ سے سجدہ سہو لازم نہیں ہو گا۔۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) میں ہے
وفي الخلاصة افتتح سورة وقصده سورة أخرى فلما قرأ آية أو آيتين أراد أن يترك تلك السورة ويفتتح التي أرادها يكره اهـ. وفي الفتح: ولو كان أي المقروء حرفًا واحدًا."
(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 547)
حاصل کلام یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں نماز کراہت تنزیہی کے ساتھ ادا ہوگئی سجدہ سہو کی ضرورت نہیں۔
سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ میں پوری التحیات پڑھنے کے بعد ( افضل یہ ہے کہ درود شریف بھی پڑھ لے) صرف دائیں طرف سلام پھیر کر دو سجدے کرلیے جائیں، اور ہر سجدے میں حسبِ معمول "سبحان ربي الأعلى" کہے اور سجدے کے بعد بیٹھ کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر دائیں اور بائیں سلام پھیر دیا جائے۔ نصوص کی روشنی میں فقہاءِ احناف نے اسی طریقے کو ترجیح دی ہے، لہٰذا فقہ حنفی کے مطابق اسی پر عمل کیا جائے۔
یاد رہے کہ اگر کوئی قعدہ اخیرہ میں بھول کر تشہد، درود شریف اور دعا پڑھ چکا ہو، اور پھر اسے یاد آئے کہ مجھ پر سجدہ سہو لازم ہے، تو اسی وقت دائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد وہ سہو کے دو سجدے کرکے دوبارہ التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیرے تو سجدہ سہو ادا ہوجائے گا۔
الفتاوى الهندية میں ہے
"(الباب الثاني عشر في سجود السهو) وهو واجب، كذا في التبيين هو الصحيح، كذا في الهداية والوجوب مقيد بما إذا كان الوقت صالحا حتى إن من عليه السهو في صلاة الصبح إذا لم يسجد حتى طلعت الشمس بعد السلام الأول سقط عنه السجود وكذا إذا سها في قضاء الفائتة فلم يسجد حتى احمرت وكل ما يمنع البناء إذا وجد بعد السلام يسقط السهو، كذا في البحر الرائق.
وفي القنية لو بنى النفل على فرض سها فيه لم يسجد، كذا في النهر الفائق ومحله بعد السلام سواء كان من زيادة أو نقصان.
ولو سجد قبل السلام أجزأه عندنا هكذا رواية الأصول ويأتي بتسليمتين هو الصحيح، كذا في الهداية"(الفتاوى الهندية (1/ 125)
التحیّات پڑھ کر بلکہ افضل یہ ہے کہ دُرود شریف بھی پڑھ کر سیدھی طرف سلام پھیر کر دو سجدے کیجئے پھر تشہّد، دُرود شریف اور دُعا پڑھ کر سلام پھیردے
۔(فتاوٰی قاضی خان معہ عالمگیری، ج1، ص 121 ، نماز کے احکام، ص210)
سجدہ سہو کرنا بھول جائیں تو:
سجدہ سَہو کرنا تھا اور بُھول کر سلام پھیرا، تو جب تک مسجد سے باہر نہ ہوا کر لے۔
۔(دُرِ مختار معہ ردالمختار، ج2 ، ص 556)
میدان میں ہو تو جب تک صفوں سے مُتجاوز نہ ہو یا آگے کو سجدہ کی جگہ سے نہ گزرا کر لے، جو چیز مانِع بنا ہے، مثلاً کلام وغیرہ منافی نماز اگر سلام کے بعد پائی گئی تو اب سجدہ سہو نہیں ہو سکتا۔
۔(درمختار معہ ردالمختار، ج2، ص556 ،نماز کے احکام، ص281)
وہ اُمور جن کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، وہ دس صورتیں یہاں بیان کی جاتی ہیں ۔
۔(1 ) واجبات نماز میں جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو واجب ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ التحیات کے بعد دہنی طرف سلام پھیر کردو سجدے کرے پھر تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیرے ۔
۔(2 )فرض و نفل دونوں کا ایک حکم ہے یعنی نوافل میں بھی واجب ترک ہونے سے سجدہ سہو واجب ہے۔
۔(3 )فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نوافل و وترکی کسی رکعت میں سورہ الحمد کی آیت بھی رہ گئی یاسورت سے بیشتر دوبارہ الحمد پڑھی یا سورت ملانا بھول گیا یا سورت کو فاتحہ پر مقدم کیا یا الحمد کے بعد ایک یا دو چھوٹی آیتیں پڑھ کر رکوع میں چلا گیا پھر یاد آیا اور لوٹا اور تین آیات پڑھ کر رکوع کیا تو ان سب صورتحال میں سجدہ سہو واجب ہے۔
۔(4 )الحمد کے بعد سورت پڑھی اسکے بعد پھر الحمد پڑھی تو سجدہ سہو واجب نہیں یونہی فرض کی پچھلی رکعتوں میں فاتحہ کی تکرار سے مطلقا سجدہ سہو واجب نہیں اور اگر پہلی رکعتوں میں الحمد کا زیادہ حصہ پڑھ لیا تھاپھراعادہ کیا تو سجدہ سہو واجب ہے
۔(5 ) الحمد پڑھنا بھول گیا اور سورت شروع کر دی اور بقدر ایک آیت پڑھ لی اب یاد آیا تو الحمد پڑھ کر سورت پڑھے تو سجدہ سہو واجب ہے۔
۔(6 )فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملائی تو سجدہ سہو نہیں تو قصدا ملائی تو بھی حرج نہیں مگر امام کو نا چاہیے. یونہی اگر پچھلی رکعتوں میں ا لحمد نا پڑھی تو بھی سجدہ سہو نہیں اور رکوع و سجودو قعدہ میں قرآن پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہے۔
۔(7 ) رکوع کی جگہ سجدہ کیا یا سجدہ کی جگہ رکوع کیا یا کسی ایسے رکن کو دوبارہ کیا جو نماز میں مکرر مشروع نا تھا یا کسی رکن کو مقدم یا موخر کیا تو ان سب صورتوں میں سجدہ سہو واجب ہے۔
۔(8 )قرات وغیرہ کسی موقع پر سوچنے لگا کہ بقدر ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنےکا وقفہ ہوا تو سجدہ سہو واجب ہے ۔
۔(9)تشهد کے بعد یہ شک ہوا کہ تین ہویں یا چار اور ایک رکن کی قدر خاموش رها اور سوچتا رہا پھر یقین ہوا کہ چار ہو گیں۔تو سجده سهو واجب ہےاور اگر ایک طرف سلام پھیرنے کے بعد ایسا ہوا تو کچھ نهیں اور اگر اسے حدث ہوا اور وضو کرنے گیا تھا کہ شک واقع ہوا اور سوچنے میں وضو سے کچھ دیر تک رک رہا تو سجد سہو واجب ہے۔
۔(10(قعده اولی میں تشهد کے بعد اتنا پڑھا الھم صلی علی محمد تو سجده سهو واجب هے۔اس وجہ سے نهیں کہ درود شریف پڑھا بلکہ اس وجہ سے کہ تیسری کے قیام میں تاخیر ہوی۔تو اگر اتنی دیر تک سکوت کیاجب بھی سجده سہو واجب ہے۔جسے قعده و رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے سجده سهو واجب هے۔حالانکہ وه کلام الہی ہے۔امام اعظم رضی الله تعالی عنہ نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔درود پڑھنے والے پرتم پر کیوں سجده واجب بتایا۔عرض کی اس لیے کہ اس نے بھول کر پڑھاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تحسین فرمائی۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

0 تبصرے