(226)
دیوبندی وہابی سے مدرسہ کے لیے چندہ مانگنا کیسا یے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلےکےبارے میں کہ
زید ایک عالم دین ہے اور وہ مدرسہ کے چندہ کےلیے دیوبندی کے پاس جاتاہے اور ان سے ملاقات کرتاہے اور ان سے چندہ لیکر مدرسے کے بچو کو کھلاتا ہے تو کچھ جاھل لوگ اس بات پر اعتراض کرتے ھیں کہ بچوں کو حرام کا پیسہ کھلاتا ہے اور کہتاہے کہ مولانا لوگ خود کہتے ھیں کہ دیوبندی وہابی سے بچ کر رہے اور ان سے قطع تعلق رکھیں اور خود مولانا لوگ وہابی و دیوبندی سے مدرسہ کا چندہ لیتے ہیں کیا زید کا چندہ لینا صحیح ہے یا غلط براۓ مہربانی رہنمائی کریں اس مسئلے کو لیکر گاؤں میں بواد پیدا ہوچکا ہے
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائل محمد نسیم احمد قادری ضلع بحرائیچ شریف الہند یوپی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
وہابی دیوبندیوں کا چندہ لینے کے بارے میں دو صورتیں ہیں ایک صورت میں چندہ لینا ناجائز ہے اور دوسری صورت میں لے سکتا ہے مگر اس سے بچنا ہی بہتر ہے
وہ صورت جس میں چندہ لینا ناجائز ہے وہ یہ ہے کہ اگر بد مذہب گمراہ نے کسی کار خیر میں لگانے کو روپیہ اگر اس طور پر دیتا ہے کہ ؛ کار خیر یا مسلمانوں پر احسان رکھتا ہے یا اس کے سبب کار خیر میں کوئی مداخلت رہےگی تو لینا جائز نہیں ـ
کیوں کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
اني نهيت عن زبدالمشركين
“مجھے مشرکوں کی داد و دہش سے منع کر دیا گیا ہے۔
(جامع الترمذی، ابواب السير، باب ماجاء فی قبول هدايا المشركين، ج: 1، ص191، امین کمپنی، دهلی)
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
انا لانستعين بمشرك یعنی بے شک ہم کسی مشرک سے مددطلب نہیں کرتے ۔“
سنن ابو داود، كتاب الجهاد
(فتاوی رضویه، ج:16، ص:463)
حدیث مبارکہ میں ہے
اني لا اقبل هدية مشرك یعنی بے شک میں مشرک کا ھدیہ قبول نہیں کرتا ‘(فتاوی رضویه، ج16، ص:467)
اور فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” انا لا نقبل شيئا من المشركين یعنی بے شک ہم مشرکوں کی کوئی شئی قبول نہیں کرتے
(فتاوی رضویہ، ج 16، ص:467)
جیساکہ سرکار اعلی حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ کافر کے دئیے ہوئے پیسے کو مسجد میں لگانے کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں ـ
مسجد میں لگانے کو روپیہ اگر اس طور پر دیتا ہے کہ ؛ مسجد یا مسلمانوں احسان رکھتا ہے یا اس کے سبب مسجد میں کوئی مداخلت رہےگی تو لینا جائز نہیں
ـ(فتاوی رضویہ جلد ششم ص 484)
مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ وہابی دیوبندیوں نے اگر اس طور پر دیا ہے تو ان سے لینا ناجائز ہے۔
اور دوسری صورت کہ جس میں لے سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر بد مذہب گمراہ نے نیاز مندانہ طور پر بغیر احسان جتلائے اور کسی وہابی دیوبندی کا عمل دخل کئے بغیر چندہ دیا تو اس رقم کو لینے میں کوئی حرج نہیں
جیسا کہ سرکار اعلی حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ اور اگر نیازمندانہ طور پر پیش کرتا ہے تو حرج نہیں ـ جبکہ اس کے عوض کوئی چیز کافر کی طرف سے خرید کر مسجد میں نہ لگائی جائے ـ بلکہ مسلمان بطور خود خریدیں یا راہبوں ، مزدوروں ، کی اجرت میں دیں ـ اور اس میں بھی اصلاً وہی طریقہ ہے ـ کہ کافر مسلمان کو ہیبہ کردے ـ اور مسلمان اپنی طرف سے لگائیں
ـ(فتاوی رضویہ جلد ششم ص 484)
لیکن اگر وہابی دیوبندی سے چندہ لینے کے سبب اس بات کا اندیشہ ہو کہ مسلمانوں کو بھی اجتماع اور ان کے دوسرے مذہبی پروگراموں میں چندہ دینا پڑیگا ـ یا ان کی تعظیم کرنی پڑیگی تو ایسی صورت میں کسی بھی کام کیلئے ان سے چندہ لینا جائز نہیں ـ البتہ چندہ ان سے بہر حال ہرگز نہ مانگے ـ حکم مذکور اس صورت میں ہے جب کہ وہ خود دے ــ(پھر بھی بچنا افضل ہے)
(فتاوی فقیہ ملت جلد 2ص 147)
مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ کسی بھی کار خیر میں وہابی دیوبندی بد مذہب گمراہ کی طرف سے دیا گیا پیسہ اگرچہ استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن دینی غیرت و حمیت کا تقاضا ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے۔ اہل اسلام کو کسی کار خیر،مسجد اور مذہبی شعائر کی تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات خود اٹھانے چاہئیں۔
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

0 تبصرے