Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

تثویب کسے کہتے ہیں؟ اور یہ کب سے رانج یے؟

 (227)

تثویب کسے کہتے ہیں؟ اور یہ کب سے رانج یے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

 کیا فرماتی ہیں علماء کرام اس مسئلے میں کہ اذان کے بعد تثویب یعنی الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ پڑھنا کب اور کس ہجری سن میں جاری ہوا؟

 برائے کرم مفتیان کرام تسلی بخش جواب عنایت فرمائے اور شکریہ کا  موقع دیں شکریہ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائل محمد عرفان رضا رضوی خان پور یو پی انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 

الجواب بعونه تعالي عز وجل 

اذان کے بعد اور جماعت سے پہلے تثویب کہنا امام اعظم رحمت اللہ علیہ کے دور سے ہے  

تثویب کے معنی یہ ہیں کہ اذان کے بعد پھر نماز قائم ہونے کی عام اطلاع کی جائے، اس کے لیے لفظ مقرر نہیں جہاں کے لوگ جس لفظ کو تثویب سمجھیں وہاں کے لیے وہی تثویب ہے۔ مثلاً الصلاۃ الصلاۃ‘‘ کہنا، یا قامت قامت کہنا۔ اب جہاں پر یہ متعارف ہو کہ لوگ الصلاۃ والسلام علیک یا رسول اللہ وغیرہ کو تثویب سمجھتے ہوں وہاں یہی صیغہ تثویب ہے کہ اذان کے بعد صلاۃ پکارنا فقہاے احناف کے نزدیک بلا اختلاف جائز ومستحسن ہے۔

المرأة المناجیح میں ہے 

اذان واقامت کے درمیان

تثویب متاخرین علماءنے مستحب جانی۔(کتب فقہ و مرقات)

اس تثویب کے لئے الفاظ مقرر نہیں مسلمان جوچاہیں مقرر کرلیں بعض جگہ"اَلصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ یَارَسُوْلُ اﷲ"پڑھ دیتے ہیں یہ بھی ٹھیک ہے کہ درودبھی ہے،تثویب بھی۔ (المرأة المناجیح ج 1 ص 606 مکتبہ المدینہ)

فتاوی شارح بخاری میں ہے 

مسلم شریف میں جریر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : من سنّ في الإسلام سنۃ حسنۃ یکون لہ أجرہا وأجر من عمل بھا من بعدہ من غیر أن ینقص من أجورہم۔ 

جس نے اسلام میں اچھا نیا طریقہ ایجاد کیا تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور جتنے لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں گے سب کے برابر اسے ثواب ملے گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کمی نہیں ہوگی۔ اس حدیث سے یہ چند باتیں معلوم ہوئیں ۔

ایک یہ کہ پہلے سے کسی کام کا نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ کام ناجائز ہے۔ • کوئی بھی اچھا نیا طریقہ ایجاد کرنا ثواب کا کام ہے۔ • اس پر عمل کرنا بھی باعث ثواب ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ اگر کوئی کام فی نفسہ اچھا ہو تو اگرچہ وہ پہلے سے نہ ہوتا ہو باعث ثواب ہے۔ اسی قبیل سے یہ صلاۃ بھی ہے جو اذان کے بعد جماعت سے پہلے کہی جاتی ہے۔ صاحب ہدایہ سے لے کر آج تک تمام فقہا اسے جائز ومستحسن بتاتے آئے ہیں۔ ہدایہ میں ہے: والمتأخرون استحسنوا في الصلوات کلہا لظہور التواني في الأمور الدینیۃ۔

 فتاوی عالمگیری میں ہے: والتثویب حسن عند المتأخرین في کل صلاۃ إلا في المغرب۔ وہو رجوع المؤذن إلی الإعلام بالصلاۃ بين الأذان و الإقامۃ۔ و تثويب کل بلدۃ علی ما تعارفوا إما التنحنح أو الصلاۃ الصلاۃ أوقامت قامت؛ لأنہ للمبالغۃ في الإعلام وإنما یحصل ذلک بما تعارفوہ، کذا في الکافي۔ تثویب۔ ہر نماز کے بعد اچھی چیز ہے سواے مغرب کے۔ تثویب کے معنی یہ ہیں کہ اذان کے بعد پھر نماز قائم ہونے کی عام اطلاع کی جائے، اس کے لیے لفظ مقرر نہیں جہاں کے لوگ جس لفظ کو تثویب سمجھیں وہاں کے لیے وہی تثویب ہے۔ مثلاً ’’الصلاۃ الصلاۃ‘‘ کہنا، یا قامت قامت کہنا۔ اب جہاں پر یہ متعارف ہو کہ لوگ ’’الصلاۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ‘‘وغیرہ کو تثویب سمجھتے ہوں وہاں یہی صیغہ تثویب ہو گیا کہ اذان کے بعد صلاۃ پکارنا فقہاے احناف کے نزدیک بلا اختلاف جائز ومستحسن ہے۔اذان عموماً جماعت سے آدھا گھنٹہ پہلے ہوتی ہے ۔ اذان سن کر کبھی انسان سوچتا ہے کہ ابھی تو آدھا گھنٹہ باقی ہے۔ کچھ ٹھہر کر چلیں گے یہ کام کر لیں وہ کام کر لیں۔ اس انہماک میں وقت کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔ درمیان میں اگر صلاۃ کہہ دی جاتی ہے تو نمازی متنبہ ہو جاتا ہے کہ جماعت کا وقت قریب آگیا اسی مصلحت سے تثویب کی ایجاد ہوئی ہے ۔ 

(فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد:۵،(فتاوی شارح بخاری)

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے