(242)
قربانی کے جانور کے پاۓ ایک یا دو شخص لیں تو کس طریقے سے جائز هے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ قربانی کے جانور کے پاۓ ایک یا دو شخص لیں تو کس طریقے سے جائز هے؟
جواب عنايت فرمایں عین نوازش ہوگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائل محمد حسنین رضا پیلی بھی شریف یو پی انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعونه تعالي عز وجل
اگرشرکت میں گائے کی قُربانی کی تو ضَروری ہے کہ گوشْتْ وَزْن کر کے تقسیم کیاجائے، اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں۔ کریں گے تو گنہگار ہوں گے ۔بخوشی ایک دوسرے کو کم زیادہ مُعاف کر دینا کافی نہیں
۔( ازبہارِ شریعت ج۳ص۳۳۵ )
ہاں اگر سب ایک ہی گھر میں رہتے ہیں کہ مل کر ہی بانٹیں گے اور کھائیں گے یاشُرَکاء اپنا اپنا حصّہ لینا نہیں چاہتے ، ایسی صورت میں وَزْن کرنے کی حاجت نہیں۔
یاد رہے کہ اگر شرکاء وزن کی مشقت سے بچنا چاہتے ہیں تو وہ یوں کریں کہ گوشت تقسیم کرتے وقت اس کے ساتھ کوئی دوسری چیز مثلاً کلیجی یا دل یا پائے وغیرہ ملادے تو اب اندازے سے تقسیم کرنا جائز ہوجائے گا کیونکہ ان چیزوں کو گوشت نہیں کہا جاتا لہذا اب جنس کو جنس کے بدلے نہیں دیا جا رہا بلکہ جنس کو غیر جنس کے بدلے دیا جا رہا ہے اور خلاف جنس میں کمی و زیادتی جائز ہے۔
فتاوی قاضی خان۔میں ہے
سبعة ضحوا بقرۃ و اقتسموا لحمھا وزنا جاز ، لان بیع اللحم باللحم وزنا مثلا بمثل جاز و کذالک القسمة فإن اقتسموا اللحم جزافا لا يجوز اعتبارا بالبيع، ولو انهم اقسموا لحمھا جزافا وحلل كل واحد منهم لاصحابه الفضل لايحوز
سات شخصوں نے ایک گائے قربان کی اور اس کا گوشت آپس میں وزن کرکے تقسیم کیا تو یہ جائز ہے کیونکہ گوشت کو گوشت کے بدلے برابر برابر بیچنا جائز ہے اور یہی حکم تقسیم کرنے کا ہے، اگر انہوں نے آپس میں گوشت اندازاً تقسیم کیا تو جائز نہیں ہے بیع کا اعتبار کرتے ہوئے، اور اگر انہوں نے گوشت اندازے سے تقسیم کیا اور ان میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھیوں کو زیادتی معاف بھی کر دی تو بھی جائز نہیں ہے
۔(فتاوی قاضی خان ج 3 کتاب الاضحیۃ ص 237,238 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ)
رد المحتار شرح در مختار میں ہے
(قوله لا جزافا) لأن القسمة فيها معنى المبادلة، ولو حلل بعضهم بعضا قال في البدائع: أما عدم جواز القسمة مجازفة فلأن فيها معنى التمليك واللحم من أموال الربا فلا يجوز تمليكه مجازفة.
وأما عدم جواز التحليل فلأن الربا لا يحتمل الحل بالتحليل، ولأنه في معنى الهبة وهبة المشاع فيما يحتمل القسمة لا تصح اهـ وبه ظهر أن عدم الجواز بمعنى أنه لا يصح ولا يحل لفساد المبادلة
اور “صاحب در مختار” کا قول کہ ”اندازے سے گوشت کو تقسیم نہ کیا جائے گا“ اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ تقسیم کرنے میں مبادلہ(بیع) کا معنی پایا جارہا ہے اور اگرچہ وہ ایک دوسرے کے لئے جائز قرار دے دیں(پھر بھی جائز نہیں ہوگا).
اور”البدائع” میں (اس کے عدم جواز کی علت) یہ لکھی ہے کہ اس میں مالک بنانے کا معنی پایا جاتا ہے کا معنی پایا جاتا ہے اور گوشت اموال ربا میں سے ہے تو اس کو اندازے سے مالک بنانا جائز نہیں ہے. اور اگر وہ کمی و زیادتی کو ایک دوسرے کےلیے جائز کردیں پھر بھی جائز نہیں ہے اور کیونکہ ربا حیلے کے ذریعے حلال ہونے کا احتمال نہیں رکھتا اور کیونکہ اس میں ہبہ کے معنی پائے جاتے ہیں اور ایسی مشترک چیز جو تقسیم ہو سکتی ہو اس کا ہبہ کرنا جائز ہی نہیں ہے. اس سے ظاہر ہوا کہ عدم جواز اس معنی میں ہے کہ یہ جائز و درست نہیں ہے مبادلۃ المال بالمال (بیع) کی وجہ سے.
(ردالمحتار کتاب الاضحیۃ ج6 ص317 دارالفکر البیروت).
وقار الفتاوی۔میں ہے
قربانی کا جانور سب شرکاء میں مشترک ہے اوراس کا گوشت بھی مشترک ہے تقسیم کرتے وقت کم یا زیادہ لیں تو گوشت کو گوشت سے بدلنا ہے اور اس میں زیادتی حرام ہے اور اگر اندازے سے تقسیم کریں اور وزن نہ کریں تو کمی یا زیادتی کا شبہ ہے اس لئے یہ بھی حرام ہے تول کر برابر تقسیم کرنا ضروری ہے
۔ (وقار الفتاوی ج2 کتاب الاضحیہ ص 472 مطبوعہ قرآن بزم وقار الدین).
الدر المختار۔میں ہے
ويقسم اللحم وزنا لا جزافا إلا إذا ضم معه من الاكارع أو الجلد) صرفا للجنس لخلاف جنسه.
اور گوشت کو وزن کرکے تقسیم کیا جائے نہ کہ اندازے سے مگر یہ کہ اس گوشت کے ساتھ کلیجی یا کھال وغیرہ ملا دی جائے ایک جنس کو دوسری جنس کی طرف پھرنے کی وجہ سے
۔ (الدر المختار کتاب الاضحیۃ ص 645,646 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ)
حاصل کلام یہ ہے کہ سر پیر کو بنا کر گوشت میں ملادے یا شرکاء میں راضی برضا اہک دوسرے کو دے دیں تو حرج نہیں۔ چونکہ سر اور پیر کو گوشت نہیں کہا جاتا۔
اسی طرح اندازے سے گوشت کی تقسیم کی صورت میں ہرشریک کے حصہ میں گوشت کے علاوہ کلیجی، پائے اور سری وغیرہ شامل کردیے جائیں تو اس صورت میں بغیر تولے بھی گوشت تقسیم کردینا جائز ہے۔
المحيط البرهاني في الفقه النعماني میں ہے
وأرادوا أن يقسموا اللحم بينهم؛ إن اقتسموها وزناً يجوز؛ لأن القيمة فيها معنى السبع على هذا الوجه يجوز، وإن اقتسموها جزافاً إن جعلوا مع اللحم شيئاً من السقط نحو الرأس، والأكارع يجوز، وإن لم يجعلوا لايجوز؛ لأن البيع على هذا الوجه لايجوز".المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 100)
والله ورسوله أعلم بالصواب
كتبه محمد مجیب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونڈیشن ضلع سرہا نیپال

0 تبصرے