(221)
وضو کرتے وقت اگر منہ سے خون ائے؟ اور کیا اپنے سگے بھائی کو زکات دے سکتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں
۔1 میں وضوء کرتا ہوں تو دانت ملتے وقت منہ سے خون آتا ہے کبھی کبھی تو ایسا ہوتا ہے وہ خون تھوک پر غالب آ جاتا ہے تو اس سے وضوء کا کیا حکم ہے
۔ 2 کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کچن کا سامان وہ بھی لے آتا ہے مثلاً گیہوں آٹا چاول تیل وغیرہ وغیرہ
اور کبھی کبھی ہم بھی لے آتے ہیں
تو اس صورت میں سگے بھائی کو زکوۃ دینا کیسا ہے
۔3 اس پر بھی تھوڑی روشنی ڈال دیں مثلاً ہم نے زکوۃ نکالی ایک اپریل2025 اس کے کچھ دنوں بعد ہم نے اپنا پلاٹ بیچ دیا تو کیا پھر زکوۃ نکالنا ہوگی
۔ 4 اس کے بارے میں بھی رہنمائی فرمایئے ہمارے پاس دو موٹر سائیکل ہیں ایک کو ہم یوز کرتے ہیں دوسری کو یوز نہیں کرتے تو اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہوگا
۔5 پرچون دکان دار کس طرح زکوۃ نکالے گا کیونکہ وہ تو مال اٹھ دن میں لاتا رہتا ہے جو ختم ہو جاتا ہے
اپنا قیمتی وقت نکال کر جواب عنایت فرمائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائل محسن خان ابن مبین خان بمقام بلاسپور ضلع رامپور پیش امام نوری مسجد ضلع باندھا یوپی انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
۔1) وضو کر لینے کے بعد اگر خون کا حصہ تھوک پر غالب ہے تو آپ کا وضو ٹوٹ گیا اوراگر برائے نام ہے تو وضو باقی ہے اس وضو سے آپ نماز پڑھ سکتے ہیں۔
۔2) اگر سگا بھائی مستحق زکوۃ ہے (یعنی جس مسلمان کے پاس اس کی بنیادی ضرورت و استعمال ( یعنی رہنے کا مکان ، گھریلوبرتن ، کپڑے وغیرہ) سے زائد، نصاب کے بقدر (یعنی صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت کے برابر) مال یا سامان موجود نہ ہو اور وہ سید/ عباسی نہ ہو، وہ زکاۃ کا مستحق ہے) تو اس کو زکوۃ کی رقم دی جاسکتی ہے، بلکہ اس کو زکوۃ کی رقم دینا زیادہ باعث ثواب ہوگا، زکوۃ کی ادائیگی کا ثواب الگ اور رشتہ داری کا لحاظ رکھنے اور صلہ رحمی کرنے کا ثواب الگ۔
بھائی کو زکوۃ کا نام لئے بغیر بھی زکوۃ کی رقم دینا جائز ہے اور زکوۃ کی رقم کے مالک بن جانے کے بعد وہ اس کو جہاں چاہیں، استعمال کر سکتے ہیں۔
۔3) پلاٹ کی موجودہ ویلو رقم اگر آپ نے مجموعی نصاب میں شامل کرکے زکات نکالی تھی تو اب پلاٹ بیچنے پر زکات نہیں ورنہ مالک نصاب ہونے کے بعد جتنے سال تک پلاٹ کی زکات نہیں دئے سب دینے ہوں گے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ جو پراپرٹی تجارت کی نیت سے لی ہو کہ اس کو فروخت کر کے نفع کمایا جائے گا تو ایسی تمام پراپرٹیز اگر نصاب کے بقدر ہوں تو ہر سال ان کی موجودہ ویلیو کا حساب کر کے کل کا ڈھائی فیصد بطور زکات ادا کرنا شرعا لازم ہوگا۔
۔4) موٹر سائیکل پر زکات نہیں ہے۔ہاں اگر ایک استعمال کرتے ہوں اور دوسرے کرایہ پر دیتے ہوں تو اس کرایہ پر سال گزرنے پر زکات ہوگی جبکہ مالک نصاب بھی ہو۔
۔5) زکوۃ نکالتے ہوئے اصل مال کی قیمت ومالیَّت معلوم ہونی چاہیے تا کہ اُسی حساب سے زکوٰۃ کا فریضہ ادا کیا جائے اور جہاں تک بالخصوص مالِ تجارت کی زکوٰۃ کا تعلق ہے، تو کسی بھی تاجر کے لیے اپنے مالِ تجارت کی مالیَّت کا حساب لگانا کوئی بہت مشکل کام نہیں ہے، ہاں البتہ اگر سامانِ تجارت ایسا ہے کہ جس کا حساب لگانا واقعی انتہائی دشوار ہے،تو ایسی اشیاء کے لیے ظنِ غالب سے مالیَّت کا حساب لگایا جائے اور زکوٰۃ دیتے ہوئے ظنِ غالب سے تھوڑا زیادہ مال کا حساب رکھ کر زکوٰۃ دی جائے ،تا کہ فرض کی ادائیگی میں کسی طرح کی کوتاہی کا شبہ بھی باقی نہ رہے۔
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

0 تبصرے