(270)
اگر بیوی نہ رہنا چاہے اور شوہر جبرا رکھے تو شرعا کیا حکم ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام و مفتیان شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نےہندہ سے دو سال قبل خفیہ طور پر نکاح کیا تھا اور ہندہ کے والدین کو اسکی کوئ خبر نہیں لیکن کچھ غلط فہمی کے بنیاد پر اب ہندہ زید سے الگ ہونا چاہتی ہے جبکہ زید اسکی ہر طرح سے اس کے نان ونفقہ کا خیال رکھتا ہے اور زید ہندہ سے بہت محبت کرتا ہے اسے چھوڑنا نہیں چاہتا ہندہ کا کا کہنا ہے میں اس خفیہ نکاح کو نہیں مانتی اور نہ مجھے یہ نکاح قبول ہے جس نکاح کے بارے میں میرے ماں باپ کو نہیں معلوم ہے اور ہندہ اس نکاح کو ظاہر بھی نہیں ہونے دینا چاہتی ہے اور الگ ہونا چاہتی ہے اور زید تا عمر اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تو کیا زید ہندہ کو نہ چھوڑنے کے سبب گناہگار ہوگا قران و حدیث کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
المستفتی۔عبداللہ قادری ممبئی مہاراشٹر انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
خفیہ طور پر نکاح کیا تھا اس کا کیا مطلب ہے؟ سوال توضیح طلب ہے۔
اگر شرعی گواہان کی موجودگی میں نکاح کیا تھا تو دیگر شرائط نکاح کے ساتھ نکاح منعقد ہوگیا جبکہ دونوں بالغ ہیں۔ اگرچہ والدین کو خبر نہیں۔ اب ہندہ کا قول غلط ہے کہ نکاح نہیں مانتی ہاں جب کسی وجہ سے اسے نہیں رہنا ہے تو خلع لے سکتی ہے۔ یاد رہے کہ جبرا ہندہ کو رکھنا شرعا جائز نہیں کہ یہ گناہ یے ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ اگر بیوی کے دل میں کسی وجہ سے نفرت پیدا ہوجائے اور وہ شوہر کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو وہ حقِ خلع استعمال کر سکتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ يُقِيْمَا حُدُوْدَ اﷲِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِه.
پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اﷲ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے، سو (اندریں صورت) ان پر کوئی گناہ نہیں کہ بیوی (خود) کچھ بدلہ دے کر (اس تکلیف دہ بندھن سے) آزادی لے لے۔(البقرة، 2: 229)
اگر شوہر طلاق دے تو بیوی کو دیا گیا مال واپس لینے سے منع کیا گیا ہے لیکن جب شوہر کی طرف سے کوئی خرابی نہ ہو مگر عورت کسی وجہ سے اُس کے ساتھ نہ رہنا چاہتی ہو تو وہ خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے اور علیحدگی کی صورت میں مرد حق مہر وغیرہ کی رقم واپس لے سکتا ہے جیسا کہ مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا جو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں کسی وجہ سے دل میں نفرت پیدا ہوئی تو بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو کر علیحدگی کا مطالبہ کر دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حق مہر میں ملا ہوا باغ واپس لے کر حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو لوٹا دیا اور ان کے درمیان علیحدگی کروا دی۔
حدیث مبارکہ میں ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتْ النَّبِيَّ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اﷲِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَکِنِّي أَکْرَهُ الْکُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ: أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ ﷲِ: اقْبَلْ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ عالیہ میں آ کر کہنے لگی یا رسول اﷲ میں نہ ثابت بن قیس کے اخلاق سے ناراض ہوں اور نہ ان کے دین پر عیب لگاتی ہوں، مگر میں اسلام میں آ کر کفرانِ نعمت پسند نہیں کرتی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کا باغ (جو حق مہر میں تم نے لیا تھا) واپس کرو گی؟ وہ بولیں جی ہاں۔ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: باغ لو اور اسے ایک طلاق دےدو
۔(بخاري، الصحيح، 5: 2021، رقم: 497،بيروت،لبنان: دار ابن کثير اليمامة)۔
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

0 تبصرے