(248)
نماز عید سے قبل قربانی کرنا کیسا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
۔1۔ شہر میں قبل نماز عید بعد طلوع شمس قربانی جائز ہے یانہیں؟
۔2۔ اور اہل قریہ یا کہ شہر والے اپنی قربانی کو گاؤں بھیج دیں تو ان کو بعد صبح قبل نماز عید قربانی کرلیں تو جائز ہوگا یانہیں؟
شرعی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا کثیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائلہ ام رائقہ فاطمہ کانپور انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
۔1۔شہر میں نماز عید سے پہلےطلوع شمس کے بعد قربانی جائز نہیں ہے
۔2۔ اہل قریہ یا شہر والے اپنی قربانی کو گاؤں بھیج دیں اور وہ صبح نماز عید سے پہلے قربانی کرلیں تو جائز ہوگا
فتاوی رضویہ میں ہے
شہر میں قربانی اگر چہ ساکن دہِ کی طرف سے وہ روز و اول پیش از نماز عید (اور اگر نماز عید کسی عذر سے نہ پڑھیں تو پیش از خروج وقت نماز عید) ناجائز و نامعتبر ہے۔ اور بیرون شہر اگر چہ فنائے مصر غیر متصل بمصر ہو، اگر چہ قربانی ساکن شہر کی ہو، پیش نماز بعد طلوع فجر تاریخ دہم جائز ہے
فی الدرالمختار اول وقتہا بعد الصلٰوۃ ان ذبح فی مصرای بعد اسبق صلٰوۃ ولو قبل الخطبۃ، لکن بعد ھا احب وبعد مضی وقتہا لو لم یصلو اعلیہ العذر، ویجوز فی الغد وبعدہ قبل الصلٰوۃ لان الصلٰوۃ فی الغد تقع قضاء لااداء، زیلعی وغیرہ، و بعد طلوع فجر یوم النحر ان ان ذبح فی غیرہ والمعتبر مکان الاضحیۃ لامکان من علیہ فحیلۃ مصری ارادان یخرجھا لخارج المصر فیضحی بہا اذ ا طلع الفجر اھ فی ردالمحتار لخارج المصرای الی مایباح فیہ القصر، قہستانی، وفیہ_من باب صلٰوۃ المسافر یشرط مفارقۃ ماکان من توابع موضع الاقامۃ کربض المصر، وھو ماحول المدینۃ من بیوت ومساکن فانہ فی حکم المصر وکذا القری المتصلۃ بالربض فی الصحیح بخلاف البساطین ولو متصلہ بالبناء لانہا لیست من البلدۃ امداد، واما الفناء، وھو المکان المعد لمصالح البلد کرکض الدواب ودفن الموتٰی والقاء التراب فان اتصل بالمصر اعتبر مجاوزتہ وان انفسل بغلوۃ اومزرعۃ فلا
درمختار میں ہے
قربانی کا وقت نماز کے بعد ہے اگر شہر میں کرے یعنی نماز پڑھنے کے بعد اگر چہ خطبہ سے قبل ہو، لیکن خطبہ کے بعد مستحب ہے اور اگر عید کی نماز نہ پڑھیں تو نماز کا وقت گزر جانے کے بعد، اور دوسرے اور تیسرے اور تیسرے روز نماز سے قبل کیونکہ دسرے روز عید کی نماز قضاء ہوگی نہ کہ ادا، زیلعی وغیرہ، اور اگر گاؤں میں ذبح کرنی ہو تو عید کے روز صبح طلوع ہونے کے بعد، قربانی میں ذبح کرنے کی جگہ معتبر ہے قربانی کرنے والے کی جگہ معتبر نہیں، تو شہری کے لئے جلدی قربانی کا حیلہ یہ ہے کہ وہ جانور کو شہر سے باہر لے جائے تو فجر طلوع ہونے کے بعد قربانی کرے
ردالمحتار میں ہے
شہر سے باہر اتنی دور لے جائے جہاں سے مسافر کےلئے قصر شروع ہوتی ہے
قہستانی اور اس کے باب صلٰوۃ المسافر میں ہے کہ
قصر جائز ہوگی بشرطیکہ وہ اپنے شہر کے توابع سے نکل جائے شہر کے توابع کی مثال ڈیرے وغیرہ اور وہ شہر کے ارد گرد کے مکانات ہیں، اور شہر سے متعلق رہائش گاہیں شہر کے حکم میں ہیں، او ر یوں وہ دیہات جو شہر کے باڑوں سے متصل ہوں صحیح قول میں شہر کے حکم میں ہیں بخلاف باغات کے اگر چہ وہ عمارت سے متصل ہوں کیونکہ آبادی میں شمار نہیں، امداد الفتاوٰی، لیکن فناء شہر وہ ہے جو شہری سہولیات کے لئیے بنائی گئی ہو جیسا کہ جانوروں کے باڑے اور مردے دفن کرنے اور کوڑا وغیرہ ڈالنے کی جگہ اور اگر شہر سے متصل ہوں تو ان سے گزر جانا معتبر ہوگا اور اگر شہر سے فاصلہ پر تیراندازی یا زراعت تک ہو تو وہاں سے گزر جانا ضروری نہیں
۔ ( درمختار کتاب الاضحیہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۲)
۔( ردالمحتار کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۰۲)
۔(ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ المسافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۲۵)
(فتاوی رضویہ جلد 20 ص 73)
حاصل کلام یہ ہے کہ دیہات اور گاؤں والے صبح صادق کے بعد فجر کی نماز سے پہلے بھی قربانی کا جانور ذبح کرسکتے ہیں۔ اگر شہری اپنا جانور قربانی کے لیے دیہات میں بھیج دے تو وہاں اس کی قربانی بھی نمازِ عید سے قبل درست ہے اور ذبح کرانے کے بعد اس کا گوشت منگواسکتا ہے
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتبتہ کنیز گلزار ملت قادری شہر کانپور فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب
تصحیح و تصدیق حضرت مفتی محمد مجیب قادری حنفی

0 تبصرے