Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیا نصاب قربانی میں زمین کو شامل کریں گے یا نہیں؟

 (251)

کیا نصاب قربانی میں زمین کو شامل کریں گے یا نہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ گھر میں دو بھائی اور ماں رہتے ہیں تینوں کے نام زمین ہے باپ کا انتقال ہو چکا ہے تو کیا تینوں الگ الگ قربانی کریں گے یا ایک قربانی کریں گے  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائل:- اشرف۔پلول۔ ہریانہ انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 

الجواب بعونه تعالي عز وجل 

مسئلہ مسئولہ میں اگر تینوں کی ملکیت میں زمین ہو جو اس کی ضرورت سے زائد ہو، یعنی رہائش، مقامِ کاروبار اور کرایہ یا زراعت کے علاوہ ہو تو ایسی زمین اور جائیداد بھی قربانی کے نصاب میں شامل ہو گی۔ورنہ نہیں۔ 

الفتاوى الهندية میں ہے 

وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان"الفتاوى الهندية (1/ 191)

سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن  فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں  قربانی واجب ہونے کے لیے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصلی حاجتوں کے علاوہ 56 روپیہ(اعلیٰ حضرت  علیہ الرحمۃ  کے دور میں رائج چاندی کا نصاب) کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشت، کاشتکار کے ہل بیل اس کی حاجت اصلیہ میں داخل ہیں ، ان کا شمار نہ ہو

۔(فتاوی رضویہ،جلد 20،صفحہ 370 رضا فاونڈیشن لاہور)

 صدر الشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں

جو شخص دو سو درہم یا بجھیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کےسوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو ، وہ غنی ہے ، اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان ، جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے، ان کے سوا جو چیزیں ہوں ، وہ حاجت سے زائد ہیں

(بہارِشریعت،جلد 3،صفحہ 333،مکتبۃالمدینہ،کراچی)

حاصل کلام یہ ہے کہ اگر حاجت اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر زمین ہے پھر قربانی واجب ہے اگر تینوں کے پاس ہے تو تینوں پر قربانی واجب ہے 

 قربانی والے مسئلہ میں مالکِ نصاب ھونے کا مطلب یہ ھے کہ قربانی کے دنوں میں اس شخص کے پاس

1/  ساڑھے سات تولہ سونا( 93 گرام312-ملی گرام قیمت آج:452656 م2/ یا ساڑھے باون تولہ چاندی ( 656-گرام 184- ملی گرام قیمت آج:34653 ) 

3/ یا 34653 روپے

4/ یا 34653 روپے کے برابر مالِ تجارت

5 / یا 34653 روپے کے برابر حاجتِ اصلیہ سے زائد سامان 

6/ یا 34653 روپے کے برابر بیل،بھینس، بکری وغیرہ 

7 یا 34653 روپے۔ کےبرابرکھیتی کا مالک ھو تو اس پر قربانی واجب ھے - گھر میں جتنے لوگوں کے پاس یہ مالیت ھو گی ان سب کو اپنے اپنے نام سے قربانی کرانا ضروری ھوگا - 

اوپر جو چاندی کی قیمت 34653 روپے بتائی گئی ھے وہ 17/7/2020۔ کی اس سال چاندی کی قیمت بازار سے معلوم کر لیں۔

 اگر کسی شخص  پر اتنا قرضہ ھو کہ جس کو ادا کرنے کے بعد (اوپر بیان کردہ) نصاب باقی نہ رھے، تو اس پر قربانی واجب نہ ھو گا اس کے با وجود کرتا ھے تو سنت و مستحب کا ثواب پائے گا -  

جس پر قربانی واجب ھے اور اس وقت نقد اس کے پاس نہیں وہ چاھے قرض لے کرکرے یا اپنا کچھ مال بیچے - (بہارشریعت حصہ 15 ص 333 مکتبۃ المدینہ کراچی)

۔(ماہنامہ اشرفیہ 2004 محقق مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین رضوی مصباحی) (فتاوی رضویہ ج:۸ ص:۳۹۳)

والله ورسوله أعلم بالصواب 

كتبه محمد مجیب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونڈیشن ضلع سرہا نیپال

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے