(250)
قربانی کا جانور ذبح کرنے کا آسان طریقہ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
قربانی کا جانور ذبح کرنے کا بہتر اور آسان طریقہ کیا ہے؟ مفصل تحریر کریں
شرعی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا کثیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائل محمد ریحان کانپور انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
قربانی کرنے کا آسان اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ قربانی کے جانور کی عمر کم نہیں ہونی چاہئے بکرا ، بکری وغیرہ کی ایک سال، گائے ، بھینس وغیرہ کی دو سال، اور اونٹ ، اونٹنی کی عمر پانچ سال پورا ہونا ضروری ہے، دنبہ اور بھیڑ وغیرہ اگر چھ ماہ کا ہوجائے، لیکن وہ صحت اور فربہ ہونے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی بھی درست ہوگی۔ جانور ایسا ہو کہ اس میں کوئی ایسا عیب نہ پایا جائے جو قربانی سے مانع ہو قربانی کا جانور عمدہ ہونا چاہئیے اور جب جانور ذبح کریں تو اس سے قبل اس کو چارہ پانی دے اور ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے قربانی نہ کریں اور جانور کو بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ اس کا منہ قبلہ رخ ہونا چاہئیےاور اپنا داہنا پیر اس کے پہلو پر رکھیں قربانی سے قبل چھری 🗡️ کو خوب تیز کر لیں مگر جانور کے سامنے تیز نہ کریں زنگ آلود چھری سے جانور ذبح نہ کریں کہ یہ اسے ایذاء دینا ہوگا اور قبل ذبح
مندرجہ ذیل دعا انی وجہت وجہی الی اخرہ پڑھ کر
پھر بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر جانور کو ذبح کریں اس کے بعد یہ دعا پڑھیں
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلَ مِنِّی کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم
اگر قربانی اپنی جانب سے ہو تو منی کہیں اور دوسرے کی جانب سے ہو تو من کہیں اور ذبح کرتے وقت اس طرح ذبح کریں کہ چار رگیں کٹ جائیں اور اگر چار سے کم 3 رگیں کٹیں پھر بھی ذبیحہ حلال ہو جائے گا مگر اس سے کم میں ذبیحہ حلال نہ ہوگا اور رہی بات چار سے زیادہ رگیں اگر کٹ گئیں تو یہ جانور کو بے وجہ تکلیف دینا ہوگا اور اس کے بعد تھوڑی دیر ٹھہریں اور جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے اس کی کھال کو نہ کاٹیں اور نہ ہی گوشت کو کاٹیں اور اگر جانور بڑا ہے تو گوشت وزن کرکے تقسیم کریں اندازہ سے تقسیم نہ کریں کہ کمی زیادتی ہو سکتی ہے جو شرعا جائز نہیں ہے اس کے بعد گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کریں یہ مستحب ہے ایک فقراء میں دوسرا دوست و احباب میں تیسرا اپنے لئے اور اگر فیملی زیادہ بڑی ہو تو گوشت کو حصوں میں تقسیم نہ کریں بلکہ پورا گوشت اپنے اھل کے لئے رکھ لے اور جانور کی کھال یا تو خود استعمال کرے یا فقراء مساکین یا پھر مسجد یا مدرسہ میں دے دیں اور بہتر یہ ہے کہ قربانی کرنے والا قربانی کے دن سب سے پہلے قربانی کا گوشت کھائے اور اگر اس کے علاؤہ دوسری چیز کھائے تو بھی حرج نہیں
بہار شریعت میں ہے
قربانی کا جانور ان شرائط کے موافق ہو جو مذکور ہوئیں یعنی جو اس کی عمر بتائی گئی اس سے کم نہ ہو اور ان عیوب سے پاک ہو جن کی وجہ سے قربانی ناجائز ہوتی ہے اور بہتر یہ کہ عمدہ اور فربہ ہو قربانی سے پہلے اسے چارہ پانی دے دیں یعنی بھوکا پیاسا ذبح نہ کریں اور ایک کے سامنے دوسرے کو نہ ذبح کریں اور پہلے سے چھری تیز کر لیں ایسا نہ ہو کہ جانور گرانے کے بعد اس کے سامنے چھری تیز کی جائے جانور کو بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ قبلہ کو اس کا مونھ ہو اور اپنا داہنا پاؤں اس کے پہلو پر رکھ کر تیز چھری سے جلد ذبح کر دیا جائے اور ذبح سے پہلے یہ دُعا پڑھی جائے
اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْكَ لَهٗۚ-وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ
اسے پڑھ کر ذبح کر دے قربانی اپنی طرف سے ہو تو ذبح کے بعد یہ دُعا پڑھے
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلَ مِنِّی کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم
اس طرح ذبح کرے کہ چاروں رگیں کٹ جائیں یا کم سے کم تین رگیں کٹ جائیں اس سے زیادہ نہ کاٹیں کہ چھری گردن کے مہرہ تک پہنچ جائے کہ یہ بے وجہ کی تکلیف ہے پھر جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے یعنی جب تک اس کی روح بالکل نہ نکل جائے اس کے نہ پاؤں وغیرہ کاٹیں نہ کھال اتاریں اور اگر دوسرے کی طرف سے ذبح کرتا ہے تو مِنِّی کی جگہ مِنْ کے بعد اوس کا نام لے اور اگر وہ مشترک جانور ہے جیسے گائے اونٹ تو وزن سے گوشت
تقسیم کیا جائے محض تخمینہ سے تقسیم نہ کریں پھر اس گوشت کے تین حصے کر کے ایک حصہ فقرا پر تصدّق کرے اور ایک حصہ دوست و احباب کے یہاں بھیجے اور ایک اپنے گھر والوں کے لیے رکھے اور اس میں سے خود بھی کچھ کھالے اور اگر اہل وعیال زیادہ ہوں تو تہائی سے زیادہ بلکہ کل گوشت بھی گھر کے صرف میں لاسکتا ہے اور قربانی کا چمڑا اپنے کام میں بھی لاسکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ کسی نیک کام کے لیے دیدے مثلاً مسجد یادینی مدرسہ کو دیدے یا کسی فقیر کو دیدے بعض جگہ یہ چمڑا امام مسجد کو دیا جاتا ہے اگر امام کی تنخواہ میں نہ دیا جاتا ہو بلکہ اعانت کے طور پرہو توحرج نہیں بحرالرائق میں مذکور ہے کہ قربانی کرنے والا بقرعید کے دن سب سے پہلے قربانی کا گوشت کھائے اس سے پہلے کوئی دوسری چیز نہ کھائے یہ مستحب ہے اس کے خلاف کرے جب بھی حرج نہیں
(بہار شریعت جلد سوم حصہ پانجزدہم ص 354)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتبتہ کنیز گلزار ملت قادری شہر کانپور فقہی مسائل برائے خواتین شرعی سوال و جواب
تصحیح و تصدیق حضرت مفتی محمد مجیب قادری حنفی العربی دار الافتاء البرکاتی علماء فاؤنڈیشن شرعی سوال و جواب ضلع سرہا نیپال

0 تبصرے