Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

سود اور رشوت میں کیا فرق ہے ؟

(6) 



سود اور رشوت میں کیا فرق ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سود اور رشوت میں کیا فرق ہے ؟ رہنمائی فرمائیں


*🔸سائل : محمد ریاض🔸*

اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

*وعلیکم السلام.ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*


*الجواب* ربا: یعنی سود اس زیادتی کو کہتے ہیں جو عاقدین میں سے کسی ایک کے لئے شرح کی گئی اور عوض سے خالی ہو -


📑اور بقول اعلی حضرت محدث بریلوی قدس سرہ القوی- ربا: یعنی سود عقد سے ثابت ہونے والی اس زیادتی کو کہتے ہیں جو جو عوض سے خالی ہو -

*(📗فتاوی رضویہ ج:17/ص:160/ دعوت اسلامی)*


📌 اور رشوت : جو چیز حق کو باطل ٹھرانے یا باطل کو حق ٹھرانے کے لئے دی جائے - اور بقول اعلی حضرت محدث بریلوی قدس سرہ القوی - رشوت : جو کچھ پرایا حق دبانے کے لئے دیا جائے یا اپنا کام بنانے کے لئے حاکم کو دیا جائے -

*(📘 فتاوی رضویہ ج:23/ص:597/ دعوت اسلامی)*

 *( 📕ماخوذ از خزائن التعریفات (رب) ص:172/ (رش) ص:176/ والضحی پبلی کیشنز )*

اور مال سود اور مال رشوت کے حکم میں فرق کو حضور اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی عنہ ربہ القوی بایں طور بیان فرماتے ہیں کہ " جو مال رشوت یا تغنی یا چوری سے حاصل کیا اس سے فرض ہے کہ جس جس سے لیا ہے ان پر واپس کرے وہ نہ رہے ہوں انکے ورثاء کو دے پتہ نہ چلے تو فقیروں پر تصدق کرے خرید و فروخت کسی کام میں اس مال کا لگانا حرام قطعی ہے بغیر صورت مذکورہ کوئی طریقہ اس کے وبال سے سبکدوشی کا نہیں - یہی حکم سود وغیرہ عقود فاسدہ کا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس سے لیا بالخصوص انہیں واپس کرنا فرض نہیں بلکہ اسے اختیار ہے کہ اسے واپس دے خواہ ابتداء تصدق کردے -

*" و ذالک لان الحرمة فی الرشوۃ و امثالھا لعدم الملک اصلا فھو عندہ کالمغصوب فیجب الرد علی المالک او ورثة ما امکن اما فی الربو او اشباھه فلفساد الملک و خبثه و اذا قد ملکه بالقبض ملکا خبیثا لم یبق مملوک الماخوذ منه لاستحالۃ اجتماع ملکین علی شئی واحد فلم یجب الرد و انما وجب الانخلاع عنه اما بالرد اما بالتصدق کما ھو سبیل سائر الاملاک الخبیثة " اھ*

یعنی یہ اس لئے کہ رشوت اور اس جیسے مال میں ملکیت بالکل نہ ہونے کی وجہ سے حرمت ہے لہذا وہ مال رشوت لینے والے کے پاس غضب شدہ مال کی طرح ہے

لہذا ضروری ہے کہ جس حد تک ممکن ہو وہ مال اسکے مالک یا اسکے ورثاء کو لوٹا دیا جائے پس ایسا کرنا واجب ہے سود یا اس جیسی اشیاء میں فساد ملک اور خباثت کی بناء پر بوجہ قبضہ اسکا مالک بن گیا تو جس سے مال لیا گیا اب اسکی ملکیت باقی نہ رہی بلکہ ختم ہوگئی اس لئے کہ ایک چیز بیک وقت دو ملک جمع ہونے محال ہیں ( کہ اصل شخص بھی مالک ہو اور سود خور بھی) لہذا مال ماخوذ کا واپس کرنا ضروری نہیں بلکہ اس سے علیحدگی واجب ہے خواہ بصورت یعنی لوٹانے کے ہو یا بصورت خیرات جیساکہ تمام املاک خبیثہ میں یہی طریقہ ہے - ہاں جس سے لیا ہے انہیں یا انکے ورثاء کو دینا یہاں بھی اولی ہے

📄کما نص علیہ فی الغنیہ *والخیریہ والھندیہ وغیرھا " اھ*

*(📚فتاوی رضویہ ج:23/ص:552/553/ دعوت اسلامی )*


واللہ تعالیٰ اعلم🌹ــ♻❣ــــــــــــــ

*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــہ*

*حضرت علامہ مفتی محمد اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ*

*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح خلیفئہ حضور تاج الشریعہ حضرت مفتی سید شمس الحق برکاتی مصباحی  صاحب قبلہ*


*🕳️زید نےاپنی حیات میں مسجد کیلئے زمین وقــف کی،  جس پر اذان و جماعت بھی ہوئی، لیکن اب زید کے وارثوں کا کہنا ہے کہ وہ زمین میری ہے تو اس کا شرعی حکم کیا   ہوگا؟🕳️***جاننے کے لیے لنک پر کلک کریں (5)

Clike here

آج کل لڑکیوں کو بیوٹی پارلرمیں جارکربھوں کوباریک کرنا کیسا ہے؟؟◆*جاننےکےلیےلنک پرکلک کریں(4)

 clik here

مسلمان عورت کوسندور لگاناکیسا؟❣جاننےکےلیےلنک پرکلک کریں (3)

clik here

کیاسورج گرہن یاچاندگرہن کےاثرات حاملہ عورتوں پر

(2)مرتب ہوتے ہیں؟❣*جاننےکےلیےلنک پرکلک کریں 

clik here

مسلمان کو کافر مٹی دے سکتا ہے یا نہیں جاننےکےلیےلنک . clik here . . . . (1)پرکلک کریں 





ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے