(14)
کیاسرکارغوث پاک رضی اللہ عنہ کےدھوبی کاواقعہ درست ہے؟ ۔
السلام عليكم ورحمة الله و بركاته
۔ مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلہ میں کہ حضورغوث اعظم کاایک دھوبی تھاجب وہ انتقال کرگیااور قبرمیں دفن کردیاتومنکرنکیرآئےسوال کے لیے تو انہوں نے کہا کہ میں غوث اعظم کا دھوبی ہوں۔ کیا یہ واقعہ درست ہے؟ اور کسی معتبر کتاب میں ہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔
(🎤 المستفتى:غلام نبی🎤)
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔹🔸🔹
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
بخشش اور نجات کا دارو مدار صرف اعمال پر نہیں ہے بلکہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت اور اہل اللہ سے محبت پر بھی ہے کئی ایسی روایات ہیں جن کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت رکھنے والوں کی ضرور بخشش ہوگی آپ کی ذات بابرکات سے ہر قسم کی کرامات کا صدور بہت تواتر سے ہوا ہے جیسا کہ خلقت کے ظاہر و باطن میں تصرف جنات و انسان پر حکم جاری کرنا پوشیدہ باتوں کا علم اور اس پر اطلاع اسرار کا ظاہر کرنا دلوں کے بھیدوں سے آگاہ ہونا ملک و ملکوت کے مخفیات سے خبر رکھنا مواہب غیبیہ کا عطا ہونا مردوں کو زندہ کرنا کوڑھ اور برس کے امراض دور کرنا زمین و آسمان میں امر کا نافذ کرنا لوگوں کی ارادوں کا پھیرنا اشیاء کی جنس و حقیقت کو بدلنا سورج کا طلوع کے بعد اپ کوسلام کرناسال اور مہینہ کا حاضر ہونا مہینوں سالوں زمانوں میں ہونے والے واقعات کا آپ کو پیشگی سے علم ہونا وغیرہ تمام اقسام کی کرامات بین الخاص والعام ارادتا اظہار دعوی برق کے طور پر آپ کو حاصل تھیں بڑی سے بڑی بات آپ سےمنسوب ہیں لہذا اس طرح کی کوئی کرامت حضور سے صادر ہو یا کوئی واقعہ منسوب ہو تو کوئی بعید کی بات نہیں ہے مگر روایت مذکورہ کے بارے میں اختلاف ہے حضرت علامہ مفتی عبد الواحد صاحب قادری فرماتے ہیں کہ یہی واقعہ یا اس کے مثل تفریح الخاطر میں ہے لیکن اس کے بیان کرنےمیں تحقیق ضروری ہے یونہی مبہم طور پر بلا توضیح کے بیان کرناخلاف احتیاط ہےجس سےبچنا بے حدضروری ہے۔
(۔📗فتاوی یورپ ص۲۳۱)
اور فقیہ ملت مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ روایت مذکورہ بے اصل ہے اس کا بیان کرنا درست نہیں لہذا جس نے اسے بیان کیا وہ اس سے رجوع کرے اور آئندہ نہ بیان کرنے کا عہد کرے اگر وہ ایسا نہ کرےتوکسی معتمدکتاب سے اس روایت کو ثابت کرے
(۔📗فتاوی فقیہ ملت ج ۲ ص ۴۱۱)
والله تعالی اعلم بالصواب
(۔📗 فتاویٰ مسائل شرعیہ جلد اول صفحہ ۳١٠)
۔📝محمدافروزاحمدمجاہدی
اسی طرح اور مسائل کو پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں

0 تبصرے