(13)
قدم نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بر گردن غوث اعظم رضی اللہ عنہ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کیا یہ سچ ہے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک سرکار غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے گردن پر بوقت معراج رکھا گیا ہے؟
(🎤المستفتی:راج محمدواحدی گائیڈیہ🎤)
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔸🔸🔸
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
ہاں یہ واقعہ صیح ہے اسکی تفصیل فتاوی رضویہ میں موجود ہے سرکا را علی حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں فاضل عبد القادر قادری بن شیخ محی الدین اربلی، تفریح الخاطر فی مناقب الشيخ عبد القادر رضی اللہ تعالی عنہ میں لکھتے ہیں کہ جامع شریعت و حقیقت شیخ رشید بن محمد جنیدی رحمه اللہ تعالی علیہ کتاب حرز العاشقین میں فرماتے ہیں " ان ليلة المعراج جاء جبرئيل عليه السلام بيراق الى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم اسرع من البرق الخاطف الظاهر ونعل رجله كالهلال الباهر و مسماره كالا نجم الظواهر ولم يأخذه السكون والتمكين ليركب عليه النبي الأمين فقال له النبي صلى الله عليه وسلم لم لم تسكن يا براق حتى اركب على ظهرك فقال روحي فدا التراب نعلك يارسول الله اتمنى ان تعاهدني ان لا تركب يوم القيمة على غير حين دخولك الجنة فقال النبي صلى الله عليه وسلم يكون لك ما تمنيت فقال البراق التمس ان تضرب يدك المباركة على رقبتي ليكون علامة لي يوم القيمة فضرب النبي صلى الله تعالى عليه وسلم يده على رقبة البراق ففرح البراق فرحاً حتى لم يسع جسده روحه و تمى اربعين ذراعا من فرحه و توقف في ركوبه لحظة لحكمة خفية ازلية فظهرت روح الغوث الاعظم رضى الله تعالى عنه وقال يا سيدي ضع قدمك على رقبتي واركب فوضع النبي صلى الله تعالى عليه وسلم قدمه على رقبته وركب فقال قدمى على رقبتك وقدمك على رقبة كل اولياء الله تعالى انتهى
یعنی شب معراج جبریل امین علیہ الصلوة والسلام خدمت اقدس حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں براق حاضر لاۓکہ چمکتی اچک لے جانیوالی بجلی سے زیادہ شتاب رو تھا ، اور اس کے پاؤں کا نعل آنکھوں میں چکاجوندڈالنے والا ہلال اور اس کی کیلیں جیسے روشن تارے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سواری کے لیے اسے قرار وسکون نہ ہوا، سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس سے سبب پوچھا بولا میری جان حضور کی خاک نعل پر قربان میری آرزویہ ہےکہ حضور مجھ سے وعدہ فرما لے روز قیامت مجھی پر سوار ہو کر جنت میں تشریف لے جائیں حضور معلی صلوت اللہ تعالی وسلامہ علیہ نے فرمایا ایسا ہی ہوگابراق نے عرض کی : میں چاہتا ہوں حضور میری گردن پر دستے مبارک لگا دے کہ وہ روز قیامت میرے لیے علامت ہو۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے قبول فرما لیا دست اقدس لگتے ہی براق کو وہ فرحت و شادمانی ہوئی کہ روح اس مقدار جسم میں نہ سمائی اور طرب سے پھول کرچالیس ہاتھ اونچا ہو گیا۔ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ایک حکمت نیہانی ازلی کے پاس ایک لحظہ سواری میں توقف ہوا کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی روح مطہ نے حاضر ہو کر عرض کی : اے میرے آقا ! حضور اپنا قدم پاک میری گردن پر رکھ کر سوار ہوں۔ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی گردن مبارک پر قدم اقدس رکھ کر سوار ہوئے اور ارشاد فرمایا،میراقدم تیری گردن پراورتیرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردنوں پر
واللہ تعالی اعلم باالصواب
۔ (📗فتاوی رضویہ جلد ۲۸ ص۲۰۶ ۳۰۷ دعوت اسلامی )
,
(📗فتاوی مسائل شرعیہ جلد اول صفحہ ۲۰۱ ۲۰۲)
۔📝 محمدافروزاحمدمجاہدی
اسی طرح اور مسائل پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں

0 تبصرے