(66)
(اذان خطبہ کا جواب دینا کیساہے؟)
السلام عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نماز جمعہ میں جو اذان خطبہ کے لئے پڑھی جاتی ہے کیا اس اذان کا جواب دینا چاہئے؟ اور اذان کے بعد کی دعا پڑھنی چاہئے یا نہیں؟
(المستفتى : - جمال الدين)
🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
مقتدیوں کو خطبہ کی اذان کا جواب زبان سے دینا جائز نہیں اس لئے کہ ہمارے مذہب میں مفتی بہ قول یہ ہے کہ جب امام خطبہ دینے کیلئے ممبر پر بیٹھے اس وقت سے لیکر ختم نماز تک ہر طرح کا کلام منع ہے چاہے وہ کلام دینی ہویا دنیوی اور خطبہ کی اذان کا جواب دینا دینی کلام ہے اس وجہ سے یہ بھی جائز نہیں۔ اور
(ردالمحتار جلد ۲ ص ۱٦۰) پر باب الجمعہ میں ہے
اجابة الاذان حينئذ مكروهة»
(در مختار شامی جلد2 ص 158 )
اذا خرج الامام من الحجرة إن
كان والا فقيامه للصعود شرح المجمع فلا صلاة وكلام الى تمامها اور ایسا ہی تنقیح ضروری حاشیہ قدوری صفحہ ۳٧ پر ہے
فی العیون المرادبه (اى كلام) اجابة المؤذن اما غيره من الكلام فيكره بالاجماع
اور رہا اذان کے بعد دعا کا پڑھنا تو اسکو بھی زبان سے نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ دل میں پڑھے جیساکہ
( فتاوی شامی جلد اول ص ۳۹۹پر ہے)
وینبغى أن لا يجيب بلسانه اتفاقا في الاذان بين يدى الخطيب
۔(📗ماخوذاز فتاوی مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ٢٦٢)
والله تعالى اعلم بالصواب
۔📝 کتب محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے