Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

بچہ پیدا ہونے کے ایک ماہ بعد کان میں اذان دینا کیسا ہے؟ )

(68) 


۔(بچہ پیدا ہونے کے ایک ماہ بعد کان میں اذان دینا کیسا ہے؟ )


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد کان میں اذان ایک مہینہ بعد دے سکتے ہیں؟ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

المستفتی : - سبحان رضا خان حنفی بریلوی گورکھپوری

🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته 

بسم الله الرحمن الرحيم 

الجواب بعون الملک الوہاب

دے سکتے ہیں مگر اتنی تاخیر کرنا بہتر نہیں کیونکہ بچے کا والدین پر حق یہ ہے کہ ولادت کے بعد سب سے پہلے اس کے کانوں کو اور کانوں کے ذریعے اس کے دل و دماغ میں اللہ تبارک و تعالی و حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے مقدس نام پر شہادت توحید و رسالت اور ایمان و نماز کی دعوت سے آشنا کرے۔

امام حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے 

۔(من ولدله ولد فاٰذن في اذنه اليمنٰى واقام في اذنه اليسرىٰ رفعت عنه امّ الصبیان) 

کہ جس بچے کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے تو اسے ام الصبیان کی بیماری نہیں ہوتی دور ہو جاتی ہے ( ان شاء الله )

 (شعب الایمان بیہقی )

اب اگر بچے کے پیدا ہونے کے ایک مہینے کے بعد اذان پڑھی گئی تو ہو سکتا ہے کہ بچہ ام الصبیان کی بیماری میں مبتلا ہو جائے کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ (اِنَّ الشَّيْطٰنٙ لِلإِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِين) ، بے شک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے ۔ 

(کنزالایمان سورہ یوسف آیت ۵)

اور بہار شریعت میں مذکور ہے کہ جب بچہ پیدا ہو تو مستحب ہے کہ اسکے کان میں اذان واقامت کہی جائے 

(بہار شریعت حصہ ۱۵/صفحہ ۵۹📗)

 حاصل یہی ہے کہ بچہ پیدا ہو تو جتنی جلدی ہو سکے اس کے کان میں اذان اور تکبیر پڑھی جائے تا کہ شیطان کے وار سے محفوظ ہو جائے - هذا ما ظهر عندی

۔(📗ماخوذازفتاویٰ مسائل شرعیہ جلددوم صفحہ ٢۵٨)

والله تعالى اعلم


۔📝 کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے