Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیا کھانا کھاتے وقت اذان کا جواب دے سکتے ہیں؟

 (70)


۔(کیا کھانا کھاتے وقت اذان کا جواب دے سکتے ہیں؟ )


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ اگر کوئی شخص کھانے میں مشغول ہو تو کیا اسے اذان کا جواب دینا ضروری ہے؟

المستفتی : دانش رضا گونڈوی

🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم 

الجواب بعون الملک الوہاب

کھانا کھاتے وقت اذان ہو تو ختم اذان تک رک جائیں اور اذان کا جواب دیں کیوں کہ دوران اذان تمام کام کو بند کر دینے کا حکم ہے یہاں تک کہ تلاوت قرآن مجید بھی۔

بہار شریعت میں ہے: جب اذان ہو تو اتنی دیر کے لئے سلام کلام اور جواب سلام تمام اشغال موقوف کر دے یہاں تک کہ قرآن مجید کی تلاوت میں اذان کی آواز آئے تو تلاوت موقوف کر دے اور اذان کو غور سے سنے اور جواب دے یونہی اقامت میں راستہ چل رہا تھا کہ اذان کی آواز آئی تو اتنی دیر کے لئے کھڑا ہو جائے سنے اور جواب دے جو اذان کے وقت باتوں میں مشغول رہے اس پر معاذ اللہ خاتمہ برا ہونے کا خوف ہے ۔

 ( بہار شریعت /ج ا/ ح ۳/ اذان کا بیان ص ۴۷۳ مکتبہ دعوت اسلامی ) 

۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ٢۴٦) 

والله اعلم بالصواب

۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے