Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

وقت سے پہلے اذان ہوئی تو کیا حکم ہے؟

 (73)



(وقت سے پہلے اذان ہوئی تو کیا حکم ہے؟)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر وقت سے پہلے اذان دے دی گئی تو دوبارہ کہیں گے کہ نہیں ؟

المستفتی: محمد ارشد رضا پروانہ سالماری کٹیہار

🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

 بسم الله الرحمن الرحيم 

الجواب بعون الملک الوہاب

وقت سے پہلے اگر اذان کہی گئی تو اذان کا اعادہ کیا جائے گا یا وقت سے پہلے شروع کی تھی اثنائے اذان میں وقت ہو گیا جب بھی اعادہ کیا جائے گا جیسا کہ سر کار صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں وقت ہونے کے بعد اذان کہی جائے قبل از وقت کہی گئی یا وقت ہونے سے پہلے شروع ہوئی اور اثنائے اذان میں وقت آگیا ، تو اعادہ کی جائے ۔ 

۔(📗فتاوی هند یہ کتاب الصلوۃ باب الاذان جلد اول صفحه ۴۵ /بہار شریعت جلد اول حصہ سوم اذان کا بیان) 

۔(📗فتاوى مسائل شرعيه جلد دوم صفحہ٢۴٢)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب


۔📝 كتب محمد افروز احمد مجاہدی


اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے