Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

عیدین کے موقع سے 1400 پوارنے نوٹ دے کر 1000 نئے نوٹ لینا کیسا ہے؟

 (189)

عیدین کے موقع سے 1400 پوارنے نوٹ دے کر 1000 نئے نوٹ لینا کیسا ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام مسئلہ ھذا کے بارے میں کہ اکثر عید کے دنوں میں کچھ لوگ نئے نوٹوں کا کاروبار کرتے ہیں نئے نوٹوں کا ایک ھزار تیرہ سو چودہ سو میں دیتے ہیں کیا ایسا کرنا یعنی اس طرح نئے نوٹ منافعے پر لینا دینا جائز ہے

برائے مہربانی قرآن وحدیث سے رھنمائی فرمائیں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائل فخر علی پنجاب پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 

الجواب بعونه تعالي عز وجل

 مذکورہ صورت جائز یے یعنی 

کرنسی نوٹ کی کرنسی نوٹ سے کمی بیشی کے ساتھ نقد خرید و فروخت جائز ہے، جبکہ ادھا ر جائز نہیں۔لوگ نقد ہی سودا کرتے ہیں ادھار نہیں کرتے اس لیے شرعا جائز ہے ،کوئی حرج نہیں ۔

ہدایہ میں ہے:

یجوز بیع الفلس بالفلسین بأعیانھما ‘‘ یعنی ایک معین سکے کی بیع دو معین سکوں کے ساتھ جائز ہے۔(الھدایہ،جلد 2 ، الجز الثالث ،صفحہ63،دار احیاء التراث العربی،بیروت)

اسی میں ہے:

إذا وجد أحدھما و عدم الآخر حل التفاضل و حرم النساءمثل أن یسلم ھرویاً فی ھروی أو حنطۃ فی شعیر ‘‘ 

یعنی جب سود کی دونوں علتوں (قدر و جنس) میں سے ایک پائی جائے اور دوسری نہ پائی جائے،تو زیادتی جائز ہے اور ادھار حرام ہے ،جیسے ہرات کے بنے ہوئے کپڑے ہرات ہی کے کپڑے کے بدلے بیچنا یا گندم کو جَو کے بدلے بیچنا۔ (ایضاً،ص62)

فتاوی رضویہ رضویہ میں ہے 

(تو میں کہتا ہوں) اولاً ہمارے جمیع علماء رحمہم اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی کہ حرمت ربا کی علت وہ خاص اندازہ یعنی ناپ یا تول ہے ۔ اتحاد جنس کے ساتھ، تو اگر قدر و جنس دونوں پائی جائیں ، تو بیشی اور ادھار دونوں حرام ہیں اور اگر وہ دونوں نہ پائی جائیں ، تو حلال ہیں اور اگر دونوں میں سے ایک پائی جائے، تو بیشی حلال اور ادھار حرام ہے اور یہ ایک عام قاعدہ ہے جو کہیں منتقض نہیں اور بابِ ربا کے جمیع مسائل اسی پر دائرہیں

۔(فتاوی رضویہ،ج 17،ص 446،رضا فاؤنڈیشن لاھور)

ایک اور مقام پر نوٹ میں قدَر نہ ہونے بلکہ عددی ہونےکے بارے میں فرماتے ہیں

’اتحاد جنس سے تو تفاضل حرام نہیں ہوجاتا، اتحاد قدر بھی تو لازم ہے، نوٹ سرے سے قدر ہی نہیں رکھتا کہ نہ مکیل ہے، نہ موزون، بلکہ معدود ہے‘

۔(فتاوی رضویہ،ج 17،ص 527،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

مجلس شرعی بریلی کے فقہی سیمنیار  کے فیصلے میں ہے

’ممالک مختلفہ کے کرنسی نوٹ اگرچہ مختلف ناموں سے موسوم ہوں نوعِ واحد ہیں کہ ان سب کی اصل کاغذ ہے اور اغراض و مقاصد بھی متحد ہیں یعنی قوت خرید،اگرچہ کرنسی نوٹ مالیت میں مختلف ہیں اور یہ اختلاف تقویم کی قلت و کثرت کا ہے، نہ کہ نوع کا،یہ ایک ملک کے مختلف المالیۃ کرنسی نوٹ کی طرح ہیں۔

۔(مجلس شرعی بریلی کا پانچواں فقھی سیمینار)

مجلس شرعی اشرفیہ مبارک پور کے فیصلہ میں ہے:

دو ملکوں کی کرنسیاں اپنی حقیقت کے لحاظ سے ایک کاغذ کا ٹکڑا ہیں اور مقصود کے لحاظ سے دونوں ہی ثمن اصطلاحی ہیں،اس لیے دونوں کی جنس ایک ہے۔‘‘(چوتھا فقھی سیمینار،مجلس شرعی مبارکپور ،30 مئی 2004)

اسی میں کرنسی نوٹ  کی کرنسی نوٹ سے کمی بیشی کے ساتھ نقد خرید و فروخت جائز، جبکہ ادھا ر ناجائز ہونے سے متعلق ہے:’’دو ملکوں یا ایک ہی ملک کی کرنسیوں کی باہم خرید و فروخت صرف نقد جائز ہے گو کہ کمی بیشی کے ساتھ ہو اور اگر کسی طرف ادھار ہو تو ناجائز ہے کہ یہ جنس کے بدلہ جنس کی ادھار بیع ہے جو ایک طرح کا سود (ربا النسیئہ) ہے۔

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے