(223)
کیا میت کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کرنے پر امیر و غریب سب کھا سکتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کے زید کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا تكریبن 4 سال پہلے زید اپنے والد کے نام سے ہر سال قرآن خوانی کرتا ہے اور قرآن خوانی میں جو بچے شامل ہوتے ہیں انکو اور اُنکے ساتھ علماء جو کہ وہ بھی شامل ہوتے انکے لئے خانے پینے کا انتظام کرتا ہے ساتھ میں کچھ گاؤں کے لوگوں کی بھی دعوت کرتا جس میں امیر غریب سب ہوتے ہیں کچھ اسی طرح کے رشتے دار کی بھی دعوت ہوتی کیا زید کے قرآن خوانی کے دعوت میں سبھی لوگ شریک ہو سکتے ہیں یا صرف غریب ہی کا حق ہے اس خانے میں اگر غریب ہی کھا سکتے ہیں تو دوسری صورت کیا ہوگی جسم عام دعوت کی جا سکے تفصیلی تحریری بحوالہ جواب عنایت فرمائیں کرم نوازی ہوگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائل رئیس احمد انصاری رسول پور پوٹس بھنگہا بازار ضلع شرا وستی یو پی انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نحمده ونصلي علي رسوله الكريم
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
الجواب بعونه تعالي عز وجل
مذکورہ صورت میں قرآن خوانی کی دعوت امیر و غریب سب کھا سکتے ہیں چونکہ قرآن پڑھنے والے اجرت نہیں لیتے ہیں۔اس لئے میت کو اس کا اجر و ثواب بھی ملے گا۔
ہاں صرف اغنیا کو کھلانا اور فقراء کو چھوڑ دینا یہ ناجائز ہے۔
فتاوی حافظ ملت میں ہے
میت مسلمان کے لیے ایصالِ ثواب جائز اور باعثِ اجر و ثواب ہے۔ ہر عمل خیر کا ثواب میت کو پہنچتا ہے ۔ عبادت خواہ بدنی ہو یا مالی، منفرداً و مجتمعاً ہر طرح ایصالِ ثواب جائز ہے۔تلاوتِ قرآن مجید ہو یا کھانا، دونوں ایک ساتھ ہوں، یا علاحدہ علاحدہ ہر طرح ثواب پہنچتا ہے اور بلا شبہہ جائز و درست ہے ۔ احادیثِ کریمہ و اقوالِ ائمہ سے ثابت ہے ، یہی صراطِ مستقیم ہے۔ افراط و تفریط دونوں ناجائز ہیں، تیجہ، دسویں وغیرہ کی مجالس ، ایصالِ ثواب یا قرآن خوانی یا ذکرِ الٰہی، کلمۂ طیبہ وغیرہ پڑھنا ،یا ان ایام میں میت کے ایصال ثواب کے لیے کھانا کھلانا جائز و مستحسن ہے
بعض جگہ عوام ان مجالس و امورِ خیر میں ریا و نمودِ دنیوی شامل کر لیتے ہیں۔ مثلاً شادی کی طرح اغنیا کو دعوت دینا اور مال داروں کو کھلانا اور غربا و فقرا کو روکنا ، یہ ناجائز ہے۔
میت کے ایصالِ ثواب کا کھانا فقرا و مساکین کو کھلانا چاہیے، مال دار اس سے پرہیز کریں (تو اَولیٰ و بہتر ہے۔ مرتب)۔
جن لوگوں نے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن مجید یا کلمۂ طیبہ پڑھا ہے، ان کو بطور اجرت کھانا کھلانا منع ہے اور اگر وہ مال دار ہیں تو ان کو خود ہی پرہیز کرنا چاہیے اور اگر وہ قرآن خواں غربا ہیں اور اجرتِ معاوضہ مقصود نہیں تو ان کو کھلا سکتے ہیں، کیوں کہ قرآن خوانی کوئی جرم تو ہے نہیں کہ قرآن خوانی کے بعد وہ شخص اس قابل بھی نہیں رہتا کہ اس کو کھانا کھلا سکیں۔
اغنیا کو میت کے کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے، فقرا کو کھلانا چاہیے(کہ فقرا کو کھلانے میں ثواب زیادہ ہے اور جس کام پر ثواب زیادہ ملے وہی اولیٰ ہوتا ہے۔ مرتب)
.یہ قرآن خوانی اگر تیجہ، دسویں کی ہے تو وہی تفصیل ہے جو اوپر گزری یعنی اگر وہ عزیز غربا ہیں تو جائز ہے اور اگر مال دار ہیں تو(اچھا۔مرتب) نہیں اور قرآن خوانی علاوہ تیجہ، دسویں وغیرہ کے ہے اور اجرت و معاوضہ مقصود نہیں تو مال داروں کو بھی کھانا جائز ہے، ان کو دعوت بھی دے سکتے ہیں۔۔ (فتاوی حافظ ملت)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

0 تبصرے